نئی دہلی،23؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ فتوے کی خاص طور پر غیر منقولہ جائداد کی ملکیت کے حوالے سے کوئی حیثیت یا جواز نہیں ہوسکتا ہے اور اس طرح کا اعلان تیسرے فریق پر پابند نہیں ہوگا۔
جسٹس پرتابھا ایم سنگھ کا یہ فیصلہ نچلی عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل پر آیا ہے جس میں یہاں دریا گنج میں جائیداد کی ملکیت کے حوالے سے درخواست خارج کردی گئی تھی۔ نچلی عدالت میں جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے درخواست گزار نے ہائی کورٹ میں دعوی کیا تھا کہ وہ اس پراپرٹی کا مالک تھا جسے اس شخص کے وارث سے خریدا گیا تھا جس پر مبینہ طور پر اس پراپرٹی کا قبضہ 1971 میں جاری ایک حکم نامے کے ذریعے دیا گیا تھا۔
اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے جائیداد کے کرایہ دار نے دعوی کیا کہ جائیداد کے اصل مالک نے اعلان کیا تھا کہ اس کی موت کے بعد کرایہ داریا قبضہ کنندہ اس کا مالک بن جائے گا۔ کرایہ دار نے یہ بھی کہا کہ وہ بغیر کسی کرایے کے 32 سالوں سے وہاں مقیم ہے۔ مدعی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ ارپیت بھارگوا نے بتایا کہ مالکن کی موت کے بعد فتویٰ کے ذریعہ جائیداد کا حق اس کے رشتے دار کے سپرد کردیا گیا۔
جسٹس سنگھ نے تاہم کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں کہا تھا کہ فتوے ایک قانونی پابند دستاویز کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی قانون میں ان کی صداقت کا کوئی ثبوت ہے۔ ہائی کورٹ نے اس موجودہ کیس کے9 سال سے زیادہ پرانا ہونے کے پیش نظر نچلی عدالت کو ہدایت دی کہ وہ 6 ماہ کے اندر سماعت مکمل کرے اور 31 جولائی 2021 تک فیصلہ سنائے۔ اس ہدایت کے ساتھ ہی عدالت نے درخواست خارج کردی۔